بدھ، 23 اگست، 2023

القرآن 09 سورۃ توبہ 69 - 72

 09 سورۃ توبہ 69 - 72



کَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ کَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡکُمۡ قُوَّۃً وَّ اَکۡثَرَ اَمۡوَالًا وَّ اَوۡلَادًا ؕ فَاسۡتَمۡتَعُوۡا بِخَلَاقِہِمۡ فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِکُمۡ کَمَا اسۡتَمۡتَعَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ بِخَلَاقِہِمۡ وَ خُضۡتُمۡ کَالَّذِیۡ خَاضُوۡا ؕ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۶۹﴾


مثل ان لوگوں کے جو تم سے پہلے تھے تم سے وہ زیادہ قوت والے تھے اور زیادہ مال اولاد والے تھے پس وہ اپنا دینی حصہ برت گئے پھر تم نے بھی اپنا حصہ برت لیا جیسے تم سے پہلے کے لوگ اپنے حصے سے فائدہ مند ہوئے تھے اور تم نے بھی اس طرح مذاقانہ بحث کی جیسے کہ انہوں نے کی تھی ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوگئے یہی لوگ نقصان پانے والے ہیں.


اَلَمۡ یَاۡتِہِمۡ نَبَاُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ۬ ۙ وَ قَوۡمِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اَصۡحٰبِ مَدۡیَنَ وَ الۡمُؤۡتَفِکٰتِ ؕ اَتَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ۚ فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ  یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۷۰﴾


کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں, قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات (الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے) کی ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے اللّٰہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا.


وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیۡعُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ سَیَرۡحَمُہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾


مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار و معاون) اور دوست ہیں, وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں, نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکٰوۃ ادا کرتے ہیں اللّٰہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللّٰہ تعالٰی بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللّٰہ غلبے والا حکمت والا ہے.


وَعَدَ اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ وَ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿٪۷۲﴾  15


ان ایماندار مردوں اور عورتوں سے اللّٰہ نے ان جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں اور ان صاف ستھرے پاکیزہ محلات کا جو ان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں, اور اللّٰہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے یہی زبردست کامیابی ہے.


ہفتہ، 22 جولائی، 2023

القرآن 11 سورۃ ھود 01 - 11

 11 سورۃ ھود 01 - 11


أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ


الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اُحۡکِمَتۡ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ خَبِیۡرٍ ۙ﴿۱﴾


ا ل ر۔ فرمان ہے, جس کی آیتیں پختہ اور مفصّل ارشاد ہوئی ہیں, ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے,


اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنَّنِیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ ۙ﴿۲﴾


کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللّٰہ کی. میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی.


وَّ اَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُمَتِّعۡکُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤۡتِ کُلَّ ذِیۡ فَضۡلٍ فَضۡلَہٗ ؕ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ کَبِیۡرٍ ﴿۳﴾


اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدّتِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا. لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں.


اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴﴾


تم سب کو اللّٰہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے.


اَلَاۤ اِنَّہُمۡ یَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَہُمۡ لِیَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡہُ ؕ اَلَا حِیۡنَ یَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِیَابَہُمۡ ۙ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ۚ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۵﴾


دیکھو! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں. خبردار! جب کہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں, اللّٰہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی, وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں.


وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶﴾


زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللّٰہ کے ذمّے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے, سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے,


وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ کَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ لَئِنۡ قُلۡتَ اِنَّکُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾


اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ۔  ۔  ۔  ۔ جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے. اب اگر اے محمد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم), تم کہتے ہو کہ لوگو, مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے.


وَ لَئِنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡہُمُ الۡعَذَابَ اِلٰۤی اُمَّۃٍ مَّعۡدُوۡدَۃٍ لَّیَقُوۡلُنَّ مَا یَحۡبِسُہٗ ؕ اَلَا یَوۡمَ یَاۡتِیۡہِمۡ لَیۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡہُمۡ وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ٪﴿۸﴾  1


اور اگر ہم ایک خاص مدّت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے ؟ سنو! جس روز اس سزا کا وقت آ گیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔  ؏١ 


وَ لَئِنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً ثُمَّ نَزَعۡنٰہَا مِنۡہُ ۚ اِنَّہٗ لَیَئُوۡسٌ کَفُوۡرٌ ﴿۹﴾


اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے.


وَ لَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ نَعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ لَیَقُوۡلَنَّ ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیۡ ؕ اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴿ۙ۱۰﴾


اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دِلَدّر پار ہو گئے, پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے.


اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾


اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکوکار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی.


کلام علامہ محمد اقبال - کتاب:- بانگِ درا - کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے

شاعرِ مشرق :- حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ

کتاب:- بانگِ درا

کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے

نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے

 

بِٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تُو نے اے واعظ! 

خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے 

 

مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی 

جو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے 

 

مدام گوش بہ دل رہ، یہ ساز ہے ایسا

جو ہو شکستہ تو پیدا نوائے راز کرے

 

کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے 

جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے 

 

سخن میں سوز، الہٰی کہاں سے آتا ہے 

یہ چیز وہ ہے کہ پتھر کو بھی گداز کرے 

 

تمیزِ لالہ و گُل سے ہے نالۂ بلبل 

جہاں میں وانہ کوئی چشمِ امتیاز کرے 

 

غرورِ زُہد نے سِکھلا دیا ہے واعظ کو

کہ بندگانِ خدا پر زباں دراز کرے

 

ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبال

اڑا کے مجھ کو غبارِ رہِ حجاز کرے

MAQALAT E HIQMAT


 

منگل، 4 اپریل، 2023

عجب خان آفریدی

 ۔



کوہاٹ سے پشاور جاتے ھوئے کوہاٹ ٹنل کے قریب سڑک کے کنارے نصب ایک مجسمہ ہے جس کی اپنی ھی ایک تاریخ ھے ۔  نئی نسل کو اس بارے میں کم ہی معلوم ھے 


یہ مجسمہ ایک تاریخی شخصیت عجب خان آفریدی کا ہے جنہوں نے انگریز سامراج کی مخالفت میں 1923 میں درہ آدم خیل میں لڑائی لڑی تھی اور یہ لڑائی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی. جب غازی عجب خان نے انگریز کی کوہاٹ فوجی چهاؤنی اور دیگر مراکز کو حملوں کا نشانہ بنانا شروع کیا۔


انہوں نے فوجی چهاؤنی سے بھاری اسلحہ نکالنے کے ساتھ ساتھ بہت سے انگریز فوجیوں کو ہلاک بھی کیا، جس پر انگریز انٹیلی جنس اداروں اور عجب خان آفریدی میں ٹھن گئی۔


ایک دن انگریز فوج نے ان کے گھر پر ہلہ بول دیا اور عجب خان آفریدی کی والدہ سے بدتمیزی کی جس کے بعد ماں نے عجب خان آفریدی کو انگریز سے بدلہ لینے کا حکم دیا کہ جب تک تم انگریز سے میری بےعزتی کا انتقام نہ لے لو مجھے اپنی شکل مت دکھانا اور نہ ہی تب تک گھر آنا۔ یہاں تک کہ اسے اپنا دودھ تک نہ بخشنے کی بھی دھمکی دی۔


اس کے بعد عجب خان آفریدی نے دل میں مصمم ارادہ کیا کہ وہ انگریز قوم سے ایسا بدلہ لیں گے کہ وہ تاعمر یاد رکھیں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب زیادہ تر پختون قوم انگریزوں کی حمایتی تھی، اور چند گنے چنے لوگ ہی عجب خان آفریدی کے ساتھ تھے۔ انگریزوں کے ساتھی پختون عجب خان آفریدی کو غدار سمجھتے تھے اور اسے ملک دشمن سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ انگریزوں سے پیسے وصول کرتے تھے۔


اپنی والدہ سے بدسلوکی کا بدلہ لینے کے لیے عجب خان آفریدی نے ایک دن کوہاٹ کے انگریز آفیسر کے گھر پر حملہ کرتے ہوئے وہاں سے مس ایلس کو اغوا کر لیا۔ لڑکی کی ماں نے چیخ وپکار کی تو انہوں نے اسے قتل کر دیا اور پہرے پر مامور انگریزوں کو بھی قتل کرتے ہوئے مس ایلس کو اغوا کر لیا۔


اس پر تمام انگریز حیرت میں ڈوب گئے کہ اتنے کڑے پہرے کے اندر داخل ہو کر اتنا بڑا واقعہ کیسے پیش آ گیا۔


عجب خان آفریدی مس ایلس کے ساتھ 10 دن کوہاٹ کے کوتل پہاڑ کے ایک غار میں رکا رہا۔ پھر افغانستان جا کر وہاں کی حکومت سے پناہ مانگی جنہوں نے پناہ کے ساتھ سینکڑوں ایکڑ زمین بهی مزار شریف میں عجب خان آفریدی کے نام کر دی۔ اس وقت کی انگریز حکومت نے عجب خان آفریدی کے سر کی قیمت ایک لاکھ روپیہ (جو موجودہ کے کروڑوں بنتے ہیں) لگائی۔


نو مہینے بعد افغان حکومت نے انگریز حکومت اور عجب خان آفریدی کے مابین فیصلہ کرایا اور پهر طورخم باڈر پر مس ایلس کو انگریز حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ جب مس ایلس کا میڈیکل چیک اپ کیا گیا توہ حیران رہ گئے کہ مہنیوں عجب خان آفریدی اور اُن کے ساتھیوں کے چنگل میں وہ کیسے باعزت اور محفوظ رہی۔


انگریز حکومت اس حسن سلوک سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ اگر عجب خان آفریدی ایلس کی ماں کو قتل نہ کرتا تو وہ عام معافی دیتے اور انعام سے بھی نوازتے۔ اس تاریخ سے ہمارے نوجوان بے خبر ہیں کہ ہماری قوم کے بہادروں کی داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں۔


1985 میں مس ایلس سرکاری پروٹوکول کے ساتھ درہ آدم خیل آئیں اور عجب خان آفریدی کے گهر اور وہ پناہ گاہ جس میں مس ایلس رہ چکی تهی، وہاں گئیں اور جا کر وہ بہت روئیں۔


اس کے بعد عجب خان آفریدی کے آخری زندہ دوست ملک شیر خان باش خیل، جو شاید اب اس دنیا میں نہیں ہیں، سے ملاقات کی اور سننے میں آیا ہے کہ مس ایلس عجب خان آفریدی کے حسن سلوک سے اتنی متاثر ہوئی تھیں کہ اُنہوں نےکہا تھا کہ عجب خان آفریدی کو دیکھنے کے بعد انہیں کوئی پسند ہی نہیں آیا۔

اس موضوع پر پشتو میں ایک بھی فلم بن چکی ہے اور پھر ایک دور میں یہ داستان ہمارے نصاب کا حصہ رہی ہے مگر پھر نجانے کس طرح اور کیسے یہ کہانی ہمارے نصابی کتاب سے غائب ہو گئی۔ حالانکہ ہماری نئی نسل کو مشاہیر کے کارناموں سے روشناس کرنا ہمارا فرض بنتا ہے۔


کوہاٹ پشاور روڈ پر کوہاٹ سرنگ سے آگے جس نے بھی عجب خان آفریدی کا مجسمہ نصب کرنے کا سوچا ہے، وہ داد کا مستحق ہے۔